نئی دہلی،2مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی چیف امت شاہ کے خلاف کانگریس کی شکایات پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو 6 مئی تک فیصلہ لینے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے کہا ہے کہ کمیشن انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق مودی اور امت شاہ کے خلاف 9 شکایات پر فیصلہ لے۔اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ مودی اور شاہ کے خلاف کانگریس کی کل 11 شکایات میں سے 2 پر فیصلہ لیا جا چکا ہے۔اس سے پہلے منگل کو سپریم کورٹ نے کانگریس ممبر پارلیمنٹ کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی چیف امت شاہ کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی شکایت پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا تھا۔عدالت نے اس کے لئے اگلی سماعت کی تاریخ جمعرات طے کی تھی۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن اس مسئلے پر فیصلہ لینے کے لئے آزاد ہے۔نریندر مودی اور امت شاہ کے خلاف مبینہ طور پر فوج کے سیاسی استعمال اور نفرت آمیز تقریر کی شکایتیں کانگریس کی جانب سے کی گئی تھیں۔اس پر الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلے میں تاخیر کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس نے سپریم کورٹ کا رخ کر لیا تھا۔اس سے پہلے منگل کو کمیشن نے ایک معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو کلین چٹ دے دی تھی۔کمیشن نے کہا ہے کہ پی ایم مودی نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی۔اس معاملے پر گزشتہ چند دنوں سے کافی سیاسی تنازعہ چل رہا تھا اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا۔آخر کار منگل کو الیکشن کمیشن نے اعلی سطحی میٹنگ کے بعد وزیر اعظم کے خلاف شکایت کی تحقیقات کی اور ان پر لگے الزامات کو مسترد کیا۔